اہلبیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ابنا۔ صیہونی وزیر اعظم نیتن یاہو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت اور نیویارک کا دورہ کر کے واپس لوٹ گۓ ہیں لیکن ان کے دورے کی ناکامی اور ان کی بوکھلاہٹ پر مبنی ایران مخالف تقریر کا ذکر ابھی تک جاری ہے اور یورپ کے صحافتی حلقے بدستور نیتن یاہو کو موضوع بحث بنائے ہوئے ہیں۔ نیتن یاہو نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنی ساری تقریر میں ایران مخالف ماحول قائم کرنے کی کوشش کی۔ انھوں نے ایران کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں جھوٹ سے کام لے کر شائد سنہ دو ہزار آٹھ سے لے کر دو ہزار بارہ تک کے برسوں کی ایران مخالف نفسیاتی جنگ کے ماحول کو دوبارہ قائم کرنے کی سعی لاحاصل کی۔ نیتن یاہو کو اپنے اس دورے سے خالی ہاتھ واپس لوٹنا پڑا۔ اور بہت سی خبر رساں ایجنسیاں ان کو " اقوام متحدہ میں تنہا ترین فرد " اور اکیلا رہ جانے والا بھیڑیا" کے نام سے یاد کرتی ہیں۔نیتن یاہو نے جمعہ کے دن نیویارک سے واپس لوٹنے کے بعد اپنے باضابطہ بیان میں کہا کہ دنیا والوں کو ایران کے فریب میں نہیں آنا چاہۓ اور ایران مخالف پابندیوں کو نرم نہیں کرنا چاہۓ۔ لیکن نیویارک ٹائمز نے نیتن یاہو کی جانب سے ایران کے سلسلے میں استعمال کۓ جانے والے الفاظ کی بنیاد پر ان کا مذاق اڑاتے ہوئے لکھا ہے کہ نیتن یاہو کی باتوں کے غیر معتبر ہونے کا پتہ اس بات سے چلتا ہے کہ ان کی ترجیحات بدل چکی ہیں اور ان کی تقریر میں فلسطین کے لفظ کے بجائے ایران کا نام بار بار سننے میں آیا۔ "روئٹرز نے بھی نیتن یاہو کے دورۂ نیویارک پر اپنا تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اسرائيلی وزیر اعظم نے گزشتہ ہفتے ایرانی صدر کی غلط تصویر پیش کرنے کی غرض سے گھٹیا اور سفارتی آداب کے منافی الفاظ استعمال کۓ تھے اور اب وہ خود اکیلے رہ جانے والے بھیڑیۓ کی مانند ہو چکا ہے۔موجودہ حالات میں اسرائيلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو دو مسائل نے پریشان کر رکھا ہے۔ ایک مسئلہ یہ ہے کہ ایران کے بارے میں یورپ کے زاویۂ نگاہ میں تبدیلی آئي ہے۔ اور اس کا تعلق ایٹمی معاملے تک محدود نہیں ہے۔ بلکہ اس زاویۂ نگاہ کا جائزہ شام کے بحران کے حل سمیت علاقائي مسائل کے حل میں ایران کے کلیدی اور موثر کردار کے تناظر میں لیا جانا چاہۓ۔ دوسرا مسئلہ اقتصادی امور میں ایران کے کردار سے متعلق یورپ کا حقیقت پسندانہ زاویہ نگاہ ہے۔ اگرچہ اس سے قبل بھی یورپ کا یہ زاویہ نگاہ موجود تھا لیکن حالیہ دو برسوں کے دوران یورپ نے ایران کے تیل کے بائيکاٹ کی حکمت عملی یورپی یونین پر مسلط کر رکھی ہے۔ یورپی ممالک کو بھی اس بائیکاٹ کی بھاری قیمت چکانی پڑی اور اب ان کو اس کا بھر پور انداز میں احساس ہوچکا ہے۔ اور اب وہ بائیکاٹ سے پہلے والی صورتحال کی جانب لوٹنا چاہتے ہیں۔ اس لۓ یہ کہا جاسکتا ہے کہ اسرائيلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ایک غلط وقت میں ایران کے خلاف اقدام کرنے کی کوشش کی لیکن وہ اپنی اس کوشش میں منہ کے بل گر پڑے۔ نیتن یاہو بہت سی امیدوں کے ساتھ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں تقریر کرنے گۓ تھے اور انھوں نے یورپ کی حمایت کے بھروسے پر ہی کہا تھاکہ اگر ایران نے اپنا ایٹمی پروگرام بند نہ کیا تو ایران پر حملہ کردیاجائے گا۔ لیکن نیتن یاہو کے اس انتباہ کو بھی گزشتہ برسوں کی طرح کوئي پذیرائي نہ مل سکی ، کسی نے ان کا ساتھ نہ دیا اور یورپی اخبارات میں بھی ان کے بیان کو کوریج نہیں دی گئي۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ اب ریڈ لائنز بدل چکی ہیں اب یہ ریڈ لائنز ایران سے متعلق نہیں ہیں بلکہ یہ ریڈ لائنز صیہونی حکومت کے لۓ ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲
5 اکتوبر 2013 - 20:30
News ID: 470115
نیتن یاہو کو اپنے اس دورے سے خالی ہاتھ واپس لوٹنا پڑا۔ اور بہت سی خبر رساں ایجنسیاں ان کو " اقوام متحدہ میں تنہا ترین فرد " اور اکیلا رہ جانے والا بھیڑیا" کے نام سے یاد کرتی ہیں۔